Ramdan or Qaboliyat ke Ghadri
زندگی میں کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ شیئر کر رہا ہوں جو رمضان اور قبولیت کے حوالے سے ہے۔ یہ…
Ramdan or Qaboliyat ke Ghadri
زندگی میں کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ شیئر کر رہا ہوں جو رمضان اور قبولیت کے حوالے سے ہے۔ یہ 90 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے، میں اور آفتاب (جو کہ نصرہ اسکول 1994 بیچ کا طالب علم تھا) برنس روڈ پر کچھ خرید رہے تھے۔ غالباً رمضان کا آخری عشرہ تھا اور افطاری سے تھوڑا پہلے کا وقت ہوگا۔ آفتاب نے فرمائش کی کہ “مجھے رس ملائی لینی ہے”۔ میں نے کہا: “بھائی! ہمارے پاس پانچ روپے کم ہیں، اگر کہیں سے پانچ روپے مل جائیں تو تمہاری رس ملائی بھی آ جائے گی اور ہم 2D بس پر گھر بھی وقت پر پہنچ جائیں گے۔” میری یہ بات سنتے ہی آفی بھائی بولے: “بسا اوقات پیسے زمین سے بھی مل جاتے ہیں۔” یہ کہہ کر وہ زمین پر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اتنے میں ہمارے برابر ایک رکشہ کھڑا تھا، جس میں سواری آ کر بیٹھی۔ جیسے ہی رکشے والا سواری لے کر گیا، اس کے ٹائر کے نیچے سے آفی بھائی کو تہہ ہوا (fold) پانچ کا نوٹ مل گیا۔ آفی نے فوراً وہ نوٹ میرے حوالے کیا، ہم نے رس ملائی لی اور عزت سے 2D بس میں بیٹھ کر گھر آگئے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ رمضان کے وقت قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے، یہ ہم نے اس دن خود تجربہ کیا۔
메타데이터
- post_id
- 00a42a3f8bbc
- slug
- ramdan-or-qaboliyat-ke-ghadri-00a42a3f8bbc
- url
- https://medium.com/@shkhurram77/ramdan-or-qaboliyat-ke-ghadri-00a42a3f8bbc
- canonical_url
- https://medium.com/@shkhurram77/ramdan-or-qaboliyat-ke-ghadri-00a42a3f8bbc
- author_url
- https://medium.com/@shkhurram77
- status
- ok
- fetched_at
- 2026-07-13 09:25:15