#تو_کیا_ہم_نے_اجتماعی_خودکشی_کا_عزم_کیا_ہوا_ہے👉
#قاضی_فضل_اللہ_شمالی_امریکہ💝
#تو_کیا_ہم_نے_اجتماعی_خودکشی_کا_عزم_کیا_ہوا_ہے👉
#قاضی_فضل_اللہ_شمالی_امریکہ💝
دنیا تو پہلے بھی تھی اور چل رہی تھی اور اچھی چل رہی تھی ۔پھر بعد میں انسان کو پیدا کیا گیا جیسا کہ یہ اس کے لئے پیدا کیا گیا کہ اس کے بعد تو کوئی نئی مخلوق کو نہیں پیدا کیا گیا اور
سخرلکم ما فی السموات والارض
اس بات کی غماز ہے ۔
اس طرح
خلق لکم ما فی الارض جمیعا
اور اس مضمون کی دوسری آیات بھی۔
اور پھر اس کی حکمت تخلیق عبادت اور خلافت یعنی یہ خلیفہ یعنی نائب تو ہے اللہ کا۔اور یوں پابند ہے اس کا کہ جو کچھ کرے تو وہ اللہ کی فرمان کے مطابق کیا کرے ۔اس کی ذہنیت بنانے کے لئے عبادات کا حکم دیا گیا تاکہ اس میں بندگی والی روح پیدا ہو اور یہ روح پیدا ہوجاتی ہے تو پھر زندگی کے سارے معاملات میں ایسا بندہ نہ سرتابی کرتا ہے نہ نافرمانی کرتا ہے اور نہ کوتاہی کرتا ہے الا آنکہ انسانی کمزوری کی وجہ سے اس سے کوتاہی ہوجائے یعنی اس کی ساری زندگی اور اس کے معمولات کو فرمان خداوندی کا تابع بنایا گیا ہے تاکہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں بن جائیں کیونکہ ایسا کرنے سے تو اس کا اکتساب رزق حلال بھی عبادت ہی بن جاتا ہے۔
اور یہی خلافت ہے البتہ اس کا میدان وسیع ہے یعنی خلیفہ اور نائب ہونے کا ۔یہ تصور انفرادی زندگی کو بھی شامل ہے اور اجتماعی زندگی کو بھی یعنی انسانوں کی سماجیت معاملات اور سیاست سب کچھ فرمان خداوندی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں ان کو سکھانے اور سدھانے کے لئے انبیاء کرام ورسل بھجوائے گئے ۔
لیکن أساساً تو انسان بھی حیوان ہے اور حیوان میں بہیمیت ہوتی ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں اور عموماً انسانوں پر بہیمیت ہی غالب ہوتی یا ہوجاتی ہے مگر جس کو اللہ رکھے
وما تشاءون الا ان یشاء اللہ رب العالمین
اور یہ انسان چونکہ عقل کا جوہر مجرد بھی رکھتا ہے جو کہ ایک نور کی طرح ہے لیکن یہی جوہر مجرد اگر مادیت اور بہیمیت کے پیچھے لگ جائے تو یہ پھر فرد نہیں اجتماعیت کے لئے بھی بہت مضر اور مہلک حالات پیدا کردیتی ہے علامہ اقبال نے فرمایا
؎ گزرجا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے
یعنی اس نور کو راستہ معلوم کرنے اور راستہ پر چلنے کے لئے استعمال کرکے منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے استعمال کرنا ہے ۔اس نور یا جوہر مجرد میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ خیر وشر کی تمیز کرسکے قرآن کریم نے فرمایا
ونفس وما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواہا
کہ اس میں فجور اور تقوی دونوں کو پہچاننے اور اپنانے کی صلاحیت ہے ۔لیکن نفس انسانی عیاری سے اس عقل کو اپنے شہوانی تقاضوں کے لئے استعمال کرتی ہے۔
اسی وجہ سے فلاسفرز کاہمیشہ سے اختلاف رہا ہے کہ کیا انسان معصوم ہے یا کہ خونخوار ہے؟
جان جیک روسو نے انسان کومعصوم مخلوق کہا ہے ۔1754ءمیں اس نے لکھا کہ یہ ابتداء میں شکار کرکے بس زندگی گزارتے تھے البتہ ان کے چھوٹے چھوٹے گروہ ہوتے تھے اور شاید ساتھ ساتھ جنگلی گھاس پھوس اور پھل پھول سے گزارہ چلاتے تھے کہ کھانے کی چیزیں تھیں ۔پھر ان کو زراعت کی سوجھی جس سے ان کی معصومیت میں فرق آنا شروع ہوا۔
اور ہم کہتے ہیں کہ ظاہر بات ہے کہ اس کے لئے زمین کا اپنے لیے اختصاص کرجانے اور کسی چیز کا اس قسم کا اختصاص ملک کہلاتا ہے اور یہ بھی عقلاً معلوم ہے کہ اس طرح ان کےد رمیان کھینچاتانی بھی شرو ع ہوئی اور ہوتے ہوتے یہ ریاست ،نوکر شاہی اور لشکر پر چلے گئے ۔
اس کے بالعکس تھامس ہابس نے لکھا ہے کہ انسان خونخوار ہے کہ اس کی تاریخ خونی معرکوں سے بھری پڑی ہے ۔اس نے اپنی کتاب ‘‘لیویتھن ’’1651ء میں لکھی کہ انسان خودغرض ہے ،بے رحم ہے ،غلیظ ہے ۔
جان جیک روسو کے مطابق انسان کو سماج کے کرپشن نے برباد کردیا ۔اس کے نزدیک حکومت ،بیوروکریسی حتی کہ محکمۃ العدل سارے کے سارے جبر وظلم کے آلے بنے ہیں تو انسان معصوم نہ رہ سکا۔
جبکہ تھامس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہے ہی خراب۔
اول الذکر کہتا ہے کہ اچھا خراب ہوا جبکہ ثانی الذکر کہتا ہے کہ خراب ہے اس کو اچھا کرنے کی سعی ہونی چاہئے ۔
شاید روسو کی فکر پر عیسائیت کی تعلیمات کا کچھ اثر تھا کہ عیسائیت بھی کہتی ہے کہ انسان معصوم تھا ۔گناہوں نے اس کو آلودہ کیا۔اب وہ اس دلدل میں ایسے گرتے گئے بلکہ گرے ہیں کہ ان کا نکلنا اگر محال نہیں بھی تو مشکل ضرور ہے جبکہ خدا ان کو بخشنا بھی چاہتا ہے ۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اس نے اپنےبیٹے حضرت عیسی ؑ کو دشمنوں کے ہاتھوں صلیب کروایا کہ جو بھی اس بیٹے کے ساتھ رشتہ استوار کرے گا اسے بخشش ملے گی ۔گویا روسو کے مطابق انسان سہولت پسند واقع ہوا ہے اور یہ اس کے فطری ارتقاء کیو جہ سے ہے۔وہ تحقیق واستخراج میں جو بعد میں لگ گیا وہ بھی اس سہولت کے حصول کے لئے ہوتا ہے ۔اس کو ترقی کا نام دیا جاتا ہے ۔گویا ابتداء میں وہ معصوم اور قناعت پسند تھا لیکن بعد میں اس میں اس سہولت پسندی کیو جہ سے حرص بڑھتا گیا اور یوں انسان اور انسانی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا گیا اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
تھامس ہابس کے فکر کے مطابق روسو جو شکاری دور کی بات کررہا ہے کہ وہ دلیل ہے اس بات کی کہ انسان معصوم ہے ۔ہابس کے نزدیک وہاں بھی ذاتی مفادات کا غلبہ طاقت ور طبقہ وتنظیم وغیرہ تھے تو معصوم کیسے ۔
جبکہ قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات کی تناظر میں انسان ایک اشرف مخلوق ہے کہ اس کو خیر وشر دونوں کے پہچاننے اور اپنانے کی صلاحیت دے دی گئی ہے سو یہ خود کو اچھا یا برا بنا سکتا ہے
قد افلح من زکاہا وقد خاب من دساہا
میں یہی تصور ہے۔پھر چونکہ ان میں اچھے برے دونوں ہوتے ہیں تو اچھے چاہتے ہیں کہ اچھائی پھیلے جبکہ بروں کے تقاضے اور ہوتے ہیں اور چونکہ برائی دیگران کے حقوق غصب کرنے یا ان پر ظلم کرنے کا نام ہے لہذا وقتا فوقتا جب وہ بہت کُڑھے اور ہلاکتوں کا سامنا کیا تو مستقبل میں اس کو رکوانے کے لئے کچھ اقدامات کرچکے لیکن بہت کم ہی یہ کارگر ہوئے اس لئے کہ نہ سب کی بہیمیت ختم ہوسکتی ہے اور نہ کسی کی ساری بہیمیت ختم ہوسکتی ہے ۔انبیاء واولیاء ایک استثناء ہے ۔جنگ وجدل ،خون خرابہ اور ظلم وبربریت اور حق تلفی کو رکوانے کے لئے انگلینڈ کے بادشاہ جان اور باغیوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جو اس باب میں اس دنیا کا مغرب میں پہلا معاہدہ تھا جس کو عظیم چارٹر یعنی میگا کارٹا کا نام دیا گیا ۔ایک برطانوی جج لارڈ ڈیننگ نے اسے انسانی تاریخ کا اہم دستاویز قرار دیا ہے کہ یہ شخصی آزادی کی أساس ہے ۔
یہ معاہدہ 15 جون 1215ءمیں ہوا تھا۔پھر جنگ عظیم اول کے بعد لیگ آف نیشنز کا ادارہ اس غرض سے وجود میں آیا کہ خون خرابے کا راستہ روکا جائے اور گفت وشنید سے مسائل کا حل ہولیکن وہ بھی کارگر نہ ہوسکااور جنگ عظیم دوم وقوع پذیر ہواجس کی تباہی کا تصور کرکے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔پھر اس کے بعد یواین اویعنی اقوام متحدہ کاادارہ وجود میں آیا۔لیکن یہ ایک ادارہ ہے جوطاقتوروں کے اشارہ آبروکو دیکھتا ہے کہ نہ تو کوئی یہ ریاست ہے نہ اس کی کوئی فوج ہے بلکہ اس کی تو اپنی کوئی آمدنی بھی نہیں ۔اس کو تو ممالک پیسے دیتے ہیں اور ظاہر بات ہے جو زیادہ دے گا اس کا مانے گا۔اس کے ذیلی ادارے ہیں جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل ۔اب جنرل اسمبلی تو ممالک کا ایک کلب ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس میں بحث ہوتا ہے لیکن حاصل کیا؟جبکہ سلامتی کونسل میں تو اہمیت پانچ مستقل ارکان کی ہے ۔اس طرح اس کے ماتحت ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف۔ورلڈ بینک کے قیام کا مقصد جنگ سے تباہ حال ممالک کی تعمیر نو کرنا تھا جبکہ آئی ایم ایف کا مقصد کمزور معیشت کو سہارا دینا تھالیکن ہر دو اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہ ہوسکے اور بات پھر وہی کہ دیکھتے کس کو ہیں ۔اور اس پر مستزاد یہ کہ کمزور معیشتوں کو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کبھی کچھ دے بھی تو وہ کرپشن اور بدعنوانی کی نذر ہوجاتا ہے چند افراد کے وارے نیارے ہوجاتےہیں لیکن نہ تو تعمیر نو ہوتی ہے اور نہ ملک وقوم کو سہارا ملتا ہے۔
تو عالمی سطح پر یہی کھیل جاری رہتا ہے اور ملکی سطح پر خصوصاً تھرڈ ورلڈ میں سیاسی شطرنج کا کھیل جاری رہتا ہے۔
اب شطرنج ایک کھیل ہے جو پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔حنفیہ کے نزدیک اس کو اچھا نہیں کہا گیا شاید اس لئے کہ یہ وقت کا ضیاع ہے لیکن امام شافعیؒ تشمیذ الاذہان یعنی ذہن کو تیز کرنے کی غرض سے اس کو جائز بلکہ اچھا قرار دیا گیا ہے ۔کہ اس طرح دو کھیلنے والے ایک دوسرے کے خلاف داؤ پیچ کھیلتے رہتے ہیں جس کے لئے دماغ کو لڑایا جاتا ہے او ریوں ان میں سے ایک دوسرے کو اپنی ذہنی تیزی سے دوسرے کو ہرادیتا ہے ۔ویسے بھی زندگی میں داؤ پیچ کھیلے جاتے ہیں ۔کچھ داؤ پیچ قانوناًجائز ہوتے ہیں جبکہ بعض دیگر ناجائز ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ
الحرب خدعۃ
کے الفاظ وارد ہیں۔کہ جنگ چال ہے یعنی میدان جنگ میں بھی ایک دوسرے کے خلاف چال چلائے جاتے ہیں حتی کہ شریعت میں میدان جہاد میں پیٹھ پھیر کر بھاگنا گناہ کبیرہ کے فہرست میں سے ہے یعنی ‘‘التولی یوم الزحف’’گھمسان کی جنگ میں پیٹھ پھیر کر بھاگنا قرآن کریم نے فرمایا
ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ فقد باء بغضب من اللہ
اور جو پھیرے اس دن اپنا پیٹھ مگر حیلہ کرتے ہوئے جنگ کے لئے یا جگہ پکڑنے کسی گروہ کے پاس تو وہ جگہ پکڑ چکا اللہ کے غضب کا۔
آیت کریمہ میں بطور حیلہ کے پیٹھ پھیر کر دوڑنا کہ وہ پلٹ کے وار کرنا چاہتا ہے یا دشمن کو گھیرے میں لینا چاہتا ہے یا وہ اکیلا یا چند لوگ ہیں جبکہ مقابلے میں ایک بڑی لشکر ہے کہ وہ پیچھے آکر اپنے کسی گروہ سے جڑنا چاہتا ہے تو اس طرح کے حیلہ کرنے والوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کردیا گیا کہ وہ غضب خداوندی کے مستحق نہیں ہورہے کیونکہ یہ تو ان کے جدوجہد کا حصہ او رمقصد کے حصول کے لئے ہے جس پر وہ اجر کے مستحق ہوتے ہیں اور ان کو کامیابی کی صورت میں شاباش دی جاتی ہے۔
سیاست کا میدان بھی ایک میدان اور ایک کھیل ہے بعض لوگ تو اسے سنجیدہ کام سمجھ کر کرتے رہتے ہیں یعنی وہ اسے خدمت خلق کے لئے کرتے ہیں یا اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور وہ ان تصورات کے حوالے سے دھوکہ دہی نہیں کررہے کہ کہتے تو یہ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں اور اس چیز کے معلوم ہونے کے لئے ان لوگوں کا کردار آئینہ اور ایک کھلی کتاب جیسی ہوتی ہے یعنی ہر بندہ جانتا ہے کہ واقعی یہ بندہ یہ کام خدمت خلق کے لئے کرتے آئے ہیں یا یہ بندہ یہ عبادت کے طور پر کرتا رہتا ہے البتہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم بلکہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے
اب بعض ممالک میں سیاست کافی آزاد ہوا کرتی ہے اگر چہ مکمل آزاد تو بالکل نہیں ہوتی جبکہ اکثر ممالک میں تو بالکل آزاد نہیں ہوتی اور اس کا تعلق کئی ایک اسباب کے ساتھ ہوتا ہے جن میں سیاسی روایات کا عدم استحکام یا سیاسی لوگوں کے حوالے سے ملکی اور قومی سے زیادہ ذاتی ،خاندانی اور گروہی مفادات کے اسیر ہوتے ہیں اور ان سے اس کے لیے کچھ کی بھی توقع کی جاسکتی ہے تو وہاں پر ریاستی ادارے یا ادارہ اس پر ایک غیر مرئی کنٹرول رکھتے ہیں یا ملک کی تزویراتی حیثیت ایسی ہوتی ہے جو کہ نہ تو ان سیاسی لوگوں کے سامنے پوری کی پوری کھلی رہتی ہے نہ ان کے سامنے اس انداز سے کھول کے رکھی جاسکتی ہے کہ اس کا تعلق اس ریاستی ادارہ کے ساتھ ہوتا ہے تو ایسے میں سیاست کو کھلی آزادی دینے کو ملکی مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ تو ایسے میں سیاسی لوگ اور سیاسی پارٹیاں دونوں سیاسی شطرنج کی بساط پر مہروں کی طرح ہوتے ہیں ۔اور چونکہ خدمت خلق اور عبادت کا تصور تو سیاست سے کب کا عنقا ہوچکا ہے تو جب تک ان سیاسی لوگوں کا کچھ نہ کچھ کام چلتا ہے تو یہ گزارہ کرتے رہتے ہیں ان کا ضمیر انگڑائی نہیں لیتا بڑے آرام سے جس جانب روز اول سے لیٹا ہے اسی طرح لیٹا رہتا ہے البتہ جب ان کا کام ٹھپ ہوجائے تو پھریہ جناب ضمیر صاحب کو جگا دیتے ہیں اور بقلم خود اپنے آپ کو باضمیر بندے کی طرح متعارف کروانے لگ جاتے ہیں حالانکہ یہ جس بھی جانب ہوتے ہیں تو ضمیر ہی کی وجہ سے ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ضمیر تو ریموٹ کنٹرول پر ہوتا ہے اسے تو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کل پرسوں ضمیر صاحب نے کس طرف ہونا ہے اور کس طرح ہونا ہے یہ ضمیر صاحب کبھی کبھار کسی ضمیر صاحب کی شکل میں کسی ریموٹ کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں اور کبھی اس قسم کے دوسرے صاحب کے ریموٹ پر۔یہ سیڑھی اور سانپ کا کھیل ہم کم از کم اپنے سکول کے زمانے سے دیکھ رہے ہیں جب ملک میں جنرل ایوب کی حکومت تھی۔کئی ایک ممالک وقت کے ساتھ ساتھ اچھائی کی طرف گئے لیکن اپنے مادر وطن کو جو دیکھتے ہیں تو روز بروز اس کی سماجی ،معاشی اور سیاسی حالت دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ زندگی کی ترتیب نظم وضبط اور زمینی حقائق کے ساتھ ہے لیکن ایک انسان کی زندگی کے کچھ اصول اور ہر بندے کا ایک اصولی موقف ہوتا ہے ایک بااصول بندے کی زندگی اور جدوجہد ان اصولوں اور اصولی موقف کے ارداگرد گھومتے ہیں یعنی اصول اور اصولی موقف ہی اس کی جدوجہد کا محور ہوتا ہے البتہ پالیسی اور طریقہ کار میں ظروف اور حالات کے تحت تبدیلی لائی جاتی ہے کہ انسان ہی محور الحدث ہے اور حدث وحدوث کا فطری تقاضا ہے تبدیلی۔البتہ اصل انسان تو ضمیر اور نفس ناطقہ کا نام ہے یہ جسم اور اعضاء اس کے آلات واوزار ہیں تو انسان انسان ہے ضمیر اور نفس ناطقہ کی وجہ سے نہ کہ اعضاء اور جسم کی وجہ سے ۔اسٹیون ہاکنگ ہمارے دور کے طبیعیات کانابغہ تھے لیکن اس کا بدن اور اس کے تقریباً سارےا عضاء کام سے جواب دے چکے تھے البتہ اس کا دل اور دماغ ٹھیک کام کررہے تھے اور یوں اس کا نفس ناطقہ صحیح کام کررہا تھا تو دنیا بھر کے سائنس دان اس کے سامنے دست بستہ کھڑے رہتے اور ضمیرجائے تو پھر رہتا کیا ہے تبھی تو کہتے ہیں کہ ایک باضمیر انسان ہی غیرت مند ہوتا ہے اور غیرت مندہی باضمیر ہوتا ہے علامہ نے فرمایا
؎ غیرت ہے بڑی چیز جہاں تگ ودو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا
انسان کی قدر وقیمت ہی اخلاق وکردار واقدار کیو جہ سے ہوتی ہے اور اخلاق واقدار علم ودانش سے حاصل ہوتے ہیں اخلاق وکردار سے بندہ کی زندگی توازن، اعتدال اور اطمینان والی ہوتی ہے کیونکہ اخلاق واقدار کا تعلق مادی نہیں تجرد والی دنیا کی چیز ہے اور روح وضمیر نفس ناطقہ بھی تجرد کی دنیا والی چیزیں ہیں۔انسانوں کا انس اور وحدت نفس ناطقہ اور روح وضمیر کی یکسانیت کیو جہ سے آتے ہیں ۔اور سیاست نام ہے اجتماعی زندگی کا ۔اب وحدت اور اجتماعیت کا تصور نہ ہو تو ملک وقوم کا کیا بھلا ہوسکتا ہے ۔یہ انفرادیت اور انفرادیت پسندی ومفادات کی سیاست تو اس کی أساسی بُنت کو ہی ڈھا دیتی ہے ایسے میں عام لوگ سیاست اور ان سیاست دانوں سے بددل ہوتے رہے ہیں بالفاظ دیگر اجتماعیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔اور یہ تو انسان اور انسانیت کی فطرت کے خلاف ہے۔ایسی سیاست میں خاندان ،اشرافیہ اور بیوروکریسی کا تسلط رہتا ہے یہی تسلط ہی فطرت اور اصول سیاست کے خلاف ہے۔
آج تک پاکستان میں یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ اس ریاست کو کیسے چلانا ہے ۔آئین میں اگر چہ اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے اور پاکستان کامطلب کیا لا الہ الا اللہ والا نعرہ زبان زد عوام ہے کہ یہی نعرہ تھا تحریک کے وقت اور جدائی کا تصور بھی دو قومی نظریہ کے أساس پر تھا ۔جناح صاحب کے ایک سو چوالیس تقاریر میں کہیں ایک بار بھی سیکولر ریاست کا لفظ نہیں بولا گیا البتہ یہ ہوا کہ کبھی کسی حکمران نے قومی سلامتی کی ریاست کا تصور دیا ،کبھی کسی نے قومی فلاحی ریاست کی باتیں کیں، کسی نے سوشل ڈیمو کریٹ ریاست کی بات کی کسی نے سوشلزم کانعرہ لگایا ،کسی نے روشن خیال ریاست کانعرہ مستانہ نہیں نعرہ دیوانہ لگایا۔اس قسم کے نعروں نے ایک جانب لبرل فاشسٹ پیدا کیے اور دوسری طرف شدت پسند کہ ضد ہوگئی ۔یہ سارے نعرے سیاسی رجائیت کے طور پر لگائے گئے ورنہ یہ نعروں والے اپنے ان نعروں کے ساتھ بھی پھر مخلص ثابت نہ ہوئے جس طرح کہ جناح صاحب اور اس کے ساتھیوں کے تصور ریاست کے ساتھ مخلص نہیں تھے کہ وہ قرآن وسنت کو عملی کرنے کے لئے ایک ریاست چاہتے تھے ۔ان نعروں نے سیاسی نظریہ کو پاش پاش کردیا۔گویا نظریاتی حوالے سے ہم ایک برتن نہیں بلکہ ٹوٹے برتن کی کھرچیوں کے ارداگرد بھنگڑا ڈالے ہوئے ہیں ۔اسلامی فلاحی ریاست کا جو تصور تحریک کا موٹو تھا اس کو بعض بزعم خویش دانش وران جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس کے وزیر اطلاعات جو مولانا مودودی کی تحریرات سے متاثر تھے اس کے ذہن کی اختراع ثابت کرتے رہتے ہیں حالانکہ جنرل صاحب سے پہلے کی لکھی گئی کتابوں میں بھی یہ بات درج ہے کہ جناح صاحب سے پوچھا گیا کہ مملکت کا دستور کیا ہوگا؟آپ نے کہا کہ مسلمانوں کا تو چودہ سو سال سے قرآن وسنت ہی دستور چلا آرہا ہے۔
بہر تقدیر اب تو حالات اتنے گھمبیر ہوگئے کہ نظریہ کی بات کھرچی کھرچی ہوگئی۔قوم سیاست سے بیزار نظر آتی ہے جبکہ سیاست ہی سماجیت یا اس کی ایک صورت ہے اور سماجیت واجتماعیت ہی انسانیت کی تعارف ہے۔ ایسے میں تو گویا انسانیت ہی اٹھ جائے گی خدا نہ کرے کہ آس ہی ٹوٹ جائے ۔نیز سماجیت سے ٹوٹ جانا تو وطن اور وطنیت سے بھی ٹوٹ جانا ہے ایسے میں تو پھر کوئی وطن کا دفاع بھی نہیں کرے گا۔یاس میں تو انسان پھر اپنا ہی ستیا ناس کردیتا ہے خودکشی تو اسی یاس کی وجہ سے کی جاتی ہے تو کیا ہم نےاجتماعی خودکشی کا عزم کیا ہے جوکہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔اس کے لئے ضرورت ہے انسانوں کی انسانی تربیت کی قومی سطح پر بھی اور عالمی سطح پر بھی تاکہ افراد واقوام کے حقوق محفوظ ہوں اور انسانوں میں اخلاق وکردار واقدار کی ترویج ہو اس کے لئے عقل اور علم وفہم کی ضرورت ہے اور پھر عمل اور اخلاص کی بھی۔
qazifazlullaharticles #qazifazlullahadvocatearticles قاضی فضل اللہ #qazifazlullah #qazifazlullahadvocate #author #quran #islam #muslim #scholar #losangeles #santaclarita #california #UnitedStates #USA #urdu #hindi #Afghanistan #Pakistan #India
메타데이터
- post_id
- b44d77339e2d
- slug
- تو-کیا-ہم-نے-اجتماعی-خودکشی-کا-عزم-کیا-ہوا-ہے-b44d77339e2d
- url
- https://medium.com/@qazifazlullah/%D8%AA%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%85-%D9%86%DB%92-%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%B2%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92-b44d77339e2d
- canonical_url
- https://medium.com/@qazifazlullah/%D8%AA%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%85-%D9%86%DB%92-%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%B2%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92-b44d77339e2d
- author_url
- https://medium.com/@qazifazlullah
- status
- ok
- fetched_at
- 2026-06-27 10:07:59