← Back to list

امام علی علیہ السلام کی حقیقت جو دل مانتے ہیں مگر زبان انکار کرتی ہے

حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت اور خلافت وہ حقیقت ہے جسے تاریخ، قرآن، اور حدیث نے واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود، امت کا ایک بڑا…

Hasan Naqvi · 2025-03-07 08:05 · 0 claps · 3.5 min read paywalled
#imam-ali #imam-ali-ibn-abu-talib
Open on Medium ↗

امام علی علیہ السلام کی حقیقت جو دل مانتے ہیں مگر زبان انکار کرتی ہے

حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت اور خلافت وہ حقیقت ہے جسے تاریخ، قرآن، اور حدیث نے واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود، امت کا ایک بڑا حصہ انہیں ان کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو حقیقت کچھ اور نظر آتی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ جو حضرت علی (علیہ السلام) کو پہلا خلیفہ نہیں مانتے، ان کے دل اس حقیقت سے واقف ہیں کہ آپ ہی رسول اللہ (ﷺ) کے برحق جانشین اور امام ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کو زبان سے تسلیم نہیں کرتے۔

قرآن میں حق کو دل سے ماننے لیکن زبان سے انکار کرنے کی حقیقت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں واضح طور پر فرماتا ہے کہ کچھ لوگ حق کو اپنے دلوں میں پہچانتے ہیں، لیکن پھر بھی اپنی زبان سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ سورہ النمل میں ارشاد ہوتا ہے:

“وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ” (سورہ النمل 27:14) “اور انہوں نے اس کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل اس کا یقین کر چکے تھے، صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر۔ پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔”

یہ آیت ان لوگوں کی ذہنی کیفیت کو بیان کرتی ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کو اپنے دلوں میں تو مانتے ہیں، مگر دنیاوی مفادات، معاشرتی دباؤ، یا دیگر وجوہات کی بنا پر زبان سے تسلیم نہیں کرتے۔

غدیر خم اور “مولا” کے معنی کو بدلنے کی کوشش

رسول اللہ (ﷺ) نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان ان الفاظ میں کیا:

“من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ” “جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی بھی مولا ہیں۔”

یہ جملہ ایک واضح اعلان تھا کہ حضرت علی (علیہ السلام) کو امت کا رہنما اور ولی مقرر کیا جا رہا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس فرمانِ رسول (ﷺ) کے اصل مفہوم کو بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے “مولا” کا مطلب “دوست” یا “محبوب” بنا کر اس اعلانِ ولایت کی اصل روح کو چھپانے کی سازش کی۔

اگر “مولا” کا مطلب محض “دوست” ہوتا، تو کیا نبی اکرم (ﷺ) ایک ایسے مقام پر جہاں ہزاروں صحابہ موجود تھے، اتنے رسمی انداز میں دوستی کا اعلان کرتے؟ اگر یہ صرف محبت کا اظہار ہوتا تو کیا لوگوں کو وہاں رکنے اور انتظار کرنے کا حکم دیا جاتا؟ حقیقت یہ ہے کہ “مولا” کا مطلب ہمیشہ “ولی، حاکم اور رہنما” رہا ہے، اور اسی لیے رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی (علیہ السلام) کو اپنی جانشینی کا واضح اعلان کیا۔

تاریخی شواہد: دل کا ماننا اور زبان کا انکار

1. حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا اعتراف:

تاریخی حوالوں میں آیا ہے کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ایک موقع پر کہا:

“لولا علي لهلك عمر” “اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔”

یہ جملہ اس بات کی گواہی ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی علمی برتری کو دل سے تسلیم کیا گیا تھا، لیکن سیاسی طور پر انہیں خلافت نہیں دی گئی۔

2. شافعی کا قول:

شافعی، جو اہل سنت کے چار بڑے فقہی مکاتب میں سے ایک کے بانی ہیں، فرماتے ہیں:

“مجھ پر علی (علیہ السلام) کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے سورج کی روشنی واضح ہے۔”

لیکن اس کے باوجود اہل سنت میں رسمی طور پر حضرت علی (علیہ السلام) کو پہلا خلیفہ نہیں مانا جاتا۔

امام علی (علیہ السلام) کا حق: دل کی گواہی اور تاریخی مظالم

رسول اللہ (ﷺ) نے غدیر خم میں صاف اور واضح الفاظ میں حضرت علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان کیا، مگر امت نے ان کی قیادت کو نظرانداز کیا۔ اگر لوگوں کے دلوں میں حضرت علی (علیہ السلام) کی محبت نہ ہوتی تو یہ حقیقت کیوں سامنے آتی کہ جب بھی امت میں کوئی علمی یا فقہی مسئلہ درپیش ہوتا، تو سب حضرت علی (علیہ السلام) کی طرف رجوع کرتے تھے؟

یہی نہیں، بلکہ حضرت علی (علیہ السلام) سے زبردستی بیعت لی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خلافت کے نام پر جو نظام بنایا گیا، وہ حقیقی قیادت کا مظہر نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی چال تھی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کے حق کے ساتھ ساتھ ان کی زوجہ حضرت فاطمہ الزہرا (سلام اللہ علیہا) کے حق کو بھی چھینا گیا، اور ان پر ظلم ڈھائے گئے، جن کا اثر ہمیں واقعہ کربلا میں نظر آتا ہے۔

نتیجہ: دل کی سچائی کو قبول کریں

حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کو تسلیم نہ کرنا امت مسلمہ کی سب سے بڑی تاریخی غلطیوں میں سے ایک ہے، جو آج بھی امت میں اختلافات اور فرقہ واریت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج بھی بے شمار لوگ جو ظاہری طور پر حضرت علی (علیہ السلام) کو امام نہیں مانتے، ان کے دلوں میں ان کی محبت اور حقانیت کا اعتراف ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا” (سورہ النساء 4:63) “اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، پس ان سے کنارہ کر لو، انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی موثر بات کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائے۔”

یہی پیغام ہر اس شخص کے لیے ہے جو سچائی کو دل سے تو مانتا ہے مگر زبان سے انکار کرتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ تاریخی غلطیوں کو پہچانے اور حق کا اعتراف کرے تاکہ امت میں حقیقی اتحاد قائم ہو سکے۔


메타데이터
post_id
ee2e47eeb8a3
slug
امام-علی-علیہ-السلام-حق-کو-جانتے-ہوئے-زبان-سے-انکار-کرنے-والے-ee2e47eeb8a3
url
https://medium.com/@hasannaqvi83/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D9%82-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-ee2e47eeb8a3
canonical_url
https://medium.com/@hasannaqvi83/%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D9%82-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-ee2e47eeb8a3
author_url
https://medium.com/@hasannaqvi83
status
ok
fetched_at
2026-07-21 02:19:38